Site Loader
Get a Quote
Coronavirus in Pakistan

By Shah Jahan Ashraf ( sja1292@gmail.com ) Research Assistant, Government College Women University Faisalabad (GCWUF)

  چین کےشہر ووہان میں شروع ہونے والے اس وائرس نے اٹلی ، ایران ، سپین اور جنوبی کوریا سمیت 156 ممالک میں 167,291 سے زیادہ افراد کو متاثر کردیا ہے۔ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6،455 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ جبکہ چینی خبروں کے مطابق، زیادہ تر مریض جو مر چکے ہیں وہ بوڑھے تھے یا پہلے سے کسی بیماری کا شکار تھے.

چینی مکمہ صحت کے مطابق 74,438 کرونا واٸرس کےمریض صحت یاب ہونے کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گٸے ہیں۔ جان ہاپکنز وائرس ڈیش بورڈ کے مطابق ،پوری دنیا میں 76,588 افراد اس واٸرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرونا واٸرسز مختلف قسم کے واٸرسز کا مجموعہ ہے جو ابتداٸی طور پر متعدی بیماری محسوس ہوتی ہے ، جو سارس (سانس کی بیماری) کی طرح ہے ، جو کہ چھینک ، کھانسی اور آلودہ سطحوں سے پھیلتی ہے۔

مزید عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صحت مند لوگوں کو چہرے پر ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔  اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بات کا ابھی تک کوئی ثبوت نہیں مل سکا جس سے یہ کہ سکیں کہ یہ واٸرس  پالتو جانور ، خطوط یا کھانے کے ذریعے وائرس کو منتقل کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کا منظر۔۔۔

پاکستان میں کرونا واٸرس کی آمد ہوٸی یا نہیں یہ قومی اور بین الاقوامی میڈیکل سے جڑی رپورٹس سے پتہ چل جاٸے گا۔ مگر ہمارا میڈیا ہر منفی خبر کو ایسے پھیلاتا ہے جیسے نٸی نویلی دلہن کی تعریفوں کے پل باندھنا۔ گزشتہ ہفتے میں 18 کراچی جبکہ 1 فیصل آباد اور 1 اسلام آباد میں مشتبہ افراد کو ہسپتالوں میں محض شک کی بنیاد پر داخل کر لیا گیا جو کہ مرچ مصالحے کہ ساتھ سب چینلز پر نشر کی گٸی۔

بس پھر طالب علم ہوں یا استاد، کاروباری حضرات ہوں یا ملازمت پیشہ ور لوگ، سوشل میڈیا پیجز یا گروپ چلانے والے ہوں یا کسی مشہور ٹی وی چینل کے رپورٹر یاں یوٹیوب بلاگرز، ٹویٹر پر دو ٹوک ٹرینڈ بنانے والے ہوں یا ٹک ٹاک سٹارز بس بات کر رہے ہیں تو کرونا واٸرس کی۔

کوٸی اس کے نقصانات یا اب تک اس کے شکار ہونے والے انسانوں کی رپورٹ شیٸر کر رہا ہے۔ تو کوٸی اس سے بچنے کی احتیاتی تدابیر بتا رہا ہے تو کوٸی دعاٸیں شیٸر کر رہا ہے اور کچھ مضکہ خیز لوگوں نے تو اس واٸرس کو مزاق بنا رکھا ہے جیسے کہ

Usman Buzdar also share tweet about precautions from Coronavirus

” #ماشاللہ⁦❤⁩ کرونا وائرس پاکستان میں پہنچنے سے پہلے ہی اسکا  علاج دریافت ہوگیا وہ بھی پانچ منٹ میں اور پانچ روپیہ میں  ،کچا پیاز چھوٹا چھوٹا کاٹ کر مریض کو کھلا دیں 5 منٹ تک پانی نا پلاٸیں 15 منٹ کے بعد چیک کراٸیں  ان شاء اللہ کوٸ واٸرس نھیں ھوگا صدقہ جاریہ سمجھ کر شٸر کریں۔“

Whatsapp Status

دیکھنا اب پاکستان کے حکیم اور بابے ”
دیواروں پراشتہار لکھوا دیں گے کہ
“ کرونا وائرس کا شرطیہ علاج ھم سے کروائیں

Whats app Status

”پیاز میں کوئی کرونا وائرس کا علاج نہیں
تواڈی مہربانی ہُن پیاز نا مہنگا کرا دینا
پہلے ہی 60 روپے کلو ہے.“

اس کے متبادل عوام کی ایک بڑی تعداد مارکیٹ میں ماسک کی قلت اور چند لوگوں کے ماسک ریٹ بڑھانے کی وجہ سے پوری پاکستانی قوم کو برا کہ رہی ہے۔ جیسے کہ

Whats app status of students

”خدانخواستہ اگر کرونا واٸرس پاکستان میں آگیا تو ہم ایسی بدتمیز قوم ہیں کہ پہلے ماسک مہنگا کریں گے پھر ادویات پھر کفن“

”‏پانچ روپے والا ماسک پچاس روپے میں بیچنے والی قوم دو ہفتے پہلے چینی شہریوں کو حرام کھانے پر کوس رہی تھی.“

اسی طرح ایک لڑکے نے تو ماسک کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کے بڑھ جانے پر میڈیکل سٹور والوں کو حرص و لالچ سے نکلنے کی تلقین کر ڈالی جس ویڈیو کو اب تک 20 لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں جس کا کیپشن یا عنوان یہ تھا۔

”ذلالت کی انتہا #Caronavirus
180 روپے کے ماسک کا ڈبا 1700 روپے می
ں۔“

جس کہ نتیجے میں ہر دوسرا پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ہو یا پھر دوکانوں اور مکانوں میں بیٹھے افراد  یہی بات کر رہے ہیں کہ عوام غلط ہے یہ سوچ کس نے اجاگر کی کے ہم ہی غلط ہے۔ پیسے نے ہمارے ضمیر مار دیے ہیں۔

اب یہاں پر کچھ سوال بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
کسی بھی چیز کے ریٹ یا قیمت کیوں اور کب بڑھتی ہے؟
کیا زخیرہ اندوز صرف پاکستانی ہیں؟
کیا واقعی ہمارے ہی ضمیر مر چکے ہیں؟
کیا محض شک کی بنیاد پر ہم لوگ پوری قوم کو ولولہ مچا کر کہیں گے کہ ہم پر بھی عذاب آگیا ہے؟
کیا ہمیں کروناواٸرس کی روک تھام کیلٸے کچھ نہیں کرنا چاہیے؟

اب آتے ہیں ان کہ جوابات کی طرف تو میرے پیارے ہم وطنوں یہ ایک بنیادی معاشی اصول (اکنومک تھیوری) ہے کہ جب سپلائی ڈیمانڈ سے زیادہ ہوتی ہے تو ، قیمتیں گر جاتی ہیں۔  اور جب ڈیمانڈ سپلائی سے بڑھ جاتی ہیں یا کسی چیز کی قلت ہو جاتی تو قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
دوسرا یہ کہ کاروبار لالچ سے ہی کیا جاتا ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ ان کا ظرف اجازت دیتا ہے تو وہ  ویلفیٸر کرتے ہیں۔ آپ کوٸی بھی کاروبار دیکھ لیں چیز کی قیمت ڈیمانڈ اور سپلاٸی پر منحصر ہوتی ہے۔ تو اس ایک بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بحثیت پاکستانی مسلم دنیا کے ساتھ چل رہے ہیں۔ 
آپ کی اطلاع کے لیے بتاتا چلوں کہ چاٸینہ میں ماسک کی قیمتوں میں تقریبا چھ گنا اضافہ ہوا کیو نکہ ایک معروف چاٸنیز ویب ساٸیٹ کے مطابق عام طور پر کاو کی کمپنی روزانہ 400،000 ماسک تیار کرتی ہے ، لیکن اس کی طلب 200 ملین تک پہنچ چکی تھی۔
بعداز چاٸنیز حکومت نے اضافہ کرنے پر بیجنگ میں ایک دوائی اسٹور پر 3 ملین یوآن (4 434،530) جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ کیوں کہ ان کی حکومت اپنی عوام کہ مفاد میں ہے۔
اسی طرح ہانگ کانگ میں بھی ماسک کی قمتیں آسمان کو چھونے لگ گٸ تھیں ایک اسٹور پر ماسک کے ایک باکس کی قیمت ($ 90) سے قیمت بڑھ کر ($ 321) ہوچکی تھی۔
دنیا کے سب سے بڑے آن لاٸن سٹور ایمیزون پر بھی
میڈیکل فیس ماسک جو 100 ماسک کا ایک پیکٹ جو 15 پونڈ میں بیچا جارہا ےتھا، جو قیمتوں پر نظر رکھنے والی کمپنی کیپٹا کے اعداد و شمار کے مطابق، چند ہفتوں پہلے اس کی قیمت سے چار گنا زیادہ ہے۔ ایک اور بڑے سپلائر ہنیویل کے ذریعے بنی 20 ماسک کا ایک پیکٹ، جو $ 12.40 سے $ 64 تک فروخت ہوچکا ہے۔ اور کسی ملک کی عوام نے ایسے کسی کو ذلیل نہیں کیا جیسے ہم کرتے ہیں۔ ہاں اسی دوران ہمارے کچھ حب الوطن فی سبیل اللہ ماسک بانٹنے نکلے۔
چند لوگوں کی وجہ سے اپنی قوم کو غلط کہنا حب الوطنی نہیں۔  ہمارا ملک ہمارے لوگ بہت اچھے ہیں۔۔ بس فرق یہ ہے کہ ہمارا میڈیا براٸی زیادہ دیکھاتا ہے اور اچھاٸی کم ۔
میں یہ کہ رہا ہوں کہ آپ کے ایک میسج سے عوام مں منفی رویہ ہی بڑھے گا جیسے میڈیا کی وجہ سے بڑھتا ہے ہر جگہ ہر ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں فرق صرف اور صرف سسٹم کا ہے۔
جہاں کا سسٹم سخت ہمیں لگتا ہے کہ وہاں کے لوگ اچھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں ان کے قوانین کی
سختی نے پابند بنا دیا ہے۔ ہم میں خامیاں ہیں مگر اتنی نہیں جتنی ہم خود ایک دوسرے کو کہ کہ کر بڑھا رہے ہیں۔ ہمارا ہی اسلام میں ہے کہ بنا تصدیق کہ بات کو نہ پھلاٶ۔ ‏کرونا واٸرس پاکستان میں نہیں ہے جھوٹی خبریں پھیلانے سے خوف اور ڈر بڑے گا اور وہم وخوف کا واٸرس سب سے خطرناک وٸرس ہوتا ہے۔ جھوٹی خبروں سے ہماری معیشت خراب ہو گی ہماری سیاحت پر اثر پڑے گا۔ اور خاص طور پر ہم احتیاط کی بجاٸے ایک دوسرے کو مزید برا بھلا کہیں گے۔ ایک جاپان کی توہوکو یونیورسٹی میں کام کرنے والے چینی پروفیسر کو بیرونی تشخیص کے لئے بھجیا جانے والا پی ایچ ڈی کا مقالہ جانچنے کی فیس یہ کہ کر واپس کر دی کہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے کرونا واٸرس کی مشکل گھڑی میں چاٸینہ کا سب سے پہلے ساتھ دیا۔ سو میرے ہم وطنوں تم سوچ بھی نہیں سکتے اسلام کے نام پر بننے والا ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک بہترین قوم رکھتا ہے۔ ہم زندہ قوم ہیں۔ اللہ ہم سب کا حامیوں ناصر ہو

احتیا طی تدابیر

ہمیشہ صاف ستھے رہیں اور روزانہ ورزش کریں۔
کوشش کریں جب بھی وقت ملے دھوپ میں بیٹھیں اور چند منٹ سورج کی تپش سے لطف اندوز ہوں اس سے آپ کی وٹامن ڈی کی کمی پوری کو گی۔
کھانے ہمیشہ بھوک رکھ کر کھاٸیں۔ اور پانی کا استمعال زیادہ کریں۔
باہر کے کھانوں سے پرہیز کریں۔
اور اپنی نیند بھی پوری کریں۔
گھر سے باہر جاتے وقت ماسک اورعینک استمعال کریں۔

احادیث مبارک ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو شخص ہر ماہ تین روز صبح کے وقت شہد چاٹ لیا کرے، وہ کسی بڑی آفت بیماری سے دو چار نہ ہو گا۔
(سنن ابن ماجہ : 3450)

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ بے شک اللہ نے بیماری اتاری ہے تو اس نے دوائی بھی اتاری ہے اور اس نے ہر بیماری کے لیے دوائی بنائی ہے ، تم علاج معالجہ کرو اور حرام چیز کے ساتھ علاج معالجہ مت کرو ۔‘‘
(اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد، 4538)

Post Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *