Site Loader
Get a Quote

تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جو انسان کو صیح اور غلط کی پہچان کرواتا ہے تعلیم سیکھانے والا استادانبیا کرام کے پیشے سے وابستہ ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج تعلیم کے نام پر کچھ نہیں سکھایا جارہا یے۔ بلکہ تعلیم کے نام پر ہمارے معاشرے میں فساد اور تفرقہ پھیلایا جا رہا ہے۔ ہم ایک آزاد ملک میں ایک آزاد شہری کی حثیت سے رہتے ہیں لیکن ہماری تعلیمی روایات آج بھی آزاد نہیں ہیں ۔ ہمارا ملک ایک اسلامی ریاست کی بنیاد پر بنا ہے لیکن ہمارے ملک کا تعلیمی نظام اسلامی ریاست کے اصول و ضوابط کے خلاف ہے۔ اگر ہر فرد اپنی اپنی جگہ پر اپنا اپنا فرض باوقار اور پُرخلوص طریقے سے ادا کرے تو ہمارا معاشرہ اور ملک بھی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوسکتا ہے۔ اگر ہم اپنے تعلیمی میدان پر توجہ دیں اور اس کو بہتر بنائیں تو ہمارے معاشرے میں بھی با آسانی سدھار آسکتا ہے۔ تعلیم اور تربیت ایک دوسرے کے ہم پلہ ہیں اگر ان میں سے ایک الگ ہو جائے تو دوسرے کا مقصد تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔ افسوس! کہ آج کل ہمارے اساتذہ تعلیم پر تو توجہ دیتے ہیں لیکن تربیت پر نہیں۔ اسی لیئے ہمارے معاشرے میں قابل انجینیئرز، ڈاکٹرز، ایماندار وکلا اور سرکاری افسران کی شدید کمی ہے۔ ہمارا تعلیمی میدان میں رٹا اور نقل لگا کر پاس ہونا عام سی بات ہے۔ جبکہ اگر اسی نظام میں عملی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تو اس سے بچوں کی تعلیم و تربیت، ذہنی و جسمانی لحاظ سے بہتر ہو سکتی یے۔

آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہمارے معاشرے کا ہر فرد ایک بچہ سے لے کر بڑے تک موبائل فون، ٹیلی وژن اور کمپیوٹر کا استعمال شدت سے کرتا ہے۔ اگر ہم بچوں کو موبائل فون ایپلیکیشنزکے زریعے بچوں کو ایسی چیزیں سکھائیں جوکہ ان کی تعلیمی اور عملی زندگی میں مفید اور کارآمد ثابت ہوں۔ تبدیلی کبھی بھی ایک انسان نہیں لا سکتا اگر ہم واقعی اپنے ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا آغاز متحد ہو کر اپنے نظامِ تعلیم کو بدلنا ہوگا۔

نیا نظام پُرانی بنیادوں پرنہیں کھڑا کیا جاتا۔ 

Read another article about education on virtual Notes

Post Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *