Site Loader
Get a Quote

ٖCategory – Feminism Article ” Mera Jism Meri Marzi” written by Muhammad Tahir (M.Phil Sociology, GCUF)

تحریر: میرا جسم میری مرضی۔
از قلم:محمد طاہر،ایم فل(سوشیالوجی)۔
مغرب میں عورتوں کو حقوق دینے والی تحریک کو حقوق نسواں کہتے ہیں۔تحریک نسواں عام طور پر خواتین کے حقوق کا مطالبہ کرتی ہے جس کا بنیادی ایجنڈا عورتوں کے خلاف ظلم و زیادتی کو روکا جائے اور ان کو معاشرے میں عزت کی نظر سے دیکھا جائے۔بنیادی طور پر یہ مطالبہ جائز ہے۔ تحریک نسواں ایک معاشی معاشرتی اورسیاسی کوشش یا تحریک ہے جو خواتین کو ان کے بنیادی حقو ق سے محروم رکھنے والے اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار ہے۔ اس تحریک کے تین ادوار ہیں۔
پہلا دور انیسویں صدی کے اوائل سے شروع ہوا جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ خواتین کو وراثت میں حصہ دیا جائے اور خاص طور پر خواتین کو ووٹ کا حق دیا جائے۔
دوسر ا دور1960سے1980تک کا ہے۔ اس دور میں یہ تحریک چلائی گئی کہ خواتین کوثقافتی اور سیاسی طور پر پہچاناجائے اور معاشرتی و سیاسی نظام میں خواتین کو شامل کیا جائے۔
تیسرا دور1990سے2000تک کا ہے۔اس دور میں عورتوں کے بنیادی حقوق اور جنسی ہراسگی کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ ورجینیاوولف جیسی مصنفہ کی تحاریر اس موضوع کا احاطہ کرتی ہیں۔مغرب آججن حقوق نسواں کی بات کرتا ہے یہ حقوق تو اسلام نے آج سے تقریباًچودہ سو سال پہلے خواتین کو دے چکا ہے۔
اسلام سے پہلے خواتین کو وہ عزت و تکریم میسر نہ تھی جو خواتین کا بنیادی حق تھا۔ اسلام نے عورت کو عزت دی اور وراثت میں عورت کا حق مقرر کیا جبکہ شادی کے لیے عورت کی رضامندی سمیت زندگی کے ہر شعبہ میں اسلام نے عورت کو حقوق، ادب و احترام دے کر معاشرے میں ان کی شخصیت کو نمایاں کیا۔ خواتین نے جنگوں اور نازک حالات میں بھی مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کیا لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ آج پاکستان میں چند مٹھی بھر دیسی لبرل طلاق یافتہ” فاحشہ آنٹیاں خواتین کے حقوق کے نام پر مغربی ایجنڈا ”میرا جسم میری مرضی”کے نعرے کے ساتھ طوفان بدتمیزی برپا کیے ہوئے ہیں۔
میرا جسم میری مرضی جیسا نعرہ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔عورت کو جتنا حق اسلام نے دیا ہے اتنا کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔ وہ کون سا حق ہے جس کو لینے کے لیے یہ طلاق یافتہ لنڈے کی لبرل آنٹیاں بے پردہ اور بے آبرو ہو کر میرا جسم میری مرضی جسے نعرے کے ساتھ عریانی اور فحاشی پھیلا رہی ہیں اور اپنا گھر اجاڑ کر اسکا بدلہ دوسری خواتین سے لینے کے درپے ہیں۔ دیکھو دیسی لنڈے کی لبرل طلاق یافتہ آنٹی یہ پاکستان ہے جو کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ہماری اخلاقی اقدار اس جیسے غلیظ نعرے”میرا جسم میری مرضی”کی اجازت نہیں دیتی۔پاکستان مسلم معاشرے ہونے کے ناطے یہ سب یہاں جائز نہیں جو ہماری آئینی، اخلاقی اوراسلامی اقدار کے خلاف ہے۔پاکستان میں بہت ساری این جیوز غیر ملکی امداد پر کام کررہی ہیں جو کہ اسلام کے بنیادی تشخص کو خراب کرنے کی ناکام کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں آج سے تقریباً بیس سال قبل جاگیردارانہ سوچ اور نظام،تعلیم کی کمی کی بناء پر اپنے حقوق سے مناسب آگہی نہ ہونے کی وجہ سے خواتین سے ظلم و زیادتی ہوتی رہی۔ غیرت کے نام پر خواتین کا قتل جبکہ قرآن پاک سے شادی کر دینا جیسی مبینہ ظالمانہ رسومات پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا باعث بنیں لیکن اب تو تعلیم اور سوشل میڈیا،موثر قوانین اور حکمت عملی کی بدولت ان جاہلانہ رسومات پر قابو پا لیا گیا ہے۔ خواتین سے ظلم و زیادتی اور ناانصافی کے خلاف ہر غیرت مند مرد نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ اسکے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے۔پاکستان میں عورت کے حقوق کے نام پر آوارگی اور بے غیرتی مارچ ہونے جارہا ہے وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ان چند مٹھی بھر ”مہرہ” بنی ہوئی طلاق یافتہ دیسی لنڈے کی لبرل آنٹیوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیئے جو تمام معاشرے کی خواتین کے لیے شرمندگی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ یہ دیسی لنڈے کی لبرل طلاق یافتہ آنٹیاں خود تو اپنے گھر اپنی عیاشی کی خاطر برباد کر چکی ہیں جواپنی آنے والی نسلوں کو کیا پیغام دیں گی کہ کیا مرد ان کے دشمن ہیں؟جو طلاق یافتہ”رنڈی”ہونے پر فخر محسوس کریں اور خواتین کو برائی پر اکسائیں اور آزادی رائے کی آڑ میں اسلامی تشخص کا مذاق اڑائیں۔مارچ کے نام پر عریانی،فحاشی پھیلائیں یہ کسی طور پر بھی ریاست پاکستان میں قابل قبول نہیں ہیں۔
تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ پاکستانی معاشر ے میں دفاتر میں خواتین کوہراساں کرنا،سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو بلیک میل کرنا،بازاروں اور پبلک مقامات پر خواتین کے ساتھ بد تمیزی،تیزاب گردی،عورتوں پر مردوں کا جسمانی تشدد،نفسیاتی ٹارچر اور خواتین بالخصوص کمسن بچیوں کے ساتھ ریپ جیسے واقعات ہمارے معاشرے میں رونما ہو رہے ہیں جو ہماری معاشرتی پستی اور قانون کا یکساں اطلاق نہ ہونے کا ثبوت ہیں۔حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اورسزا پر عمل درآمد کرکے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جائے۔
پاکستان مزید ایسے معاملات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب کو اکٹھے ہو کر معاشرے میں جتنی بھی معاشرتی برائیوں ہیں اور ان سے وابستہ غلط پراپیگنڈا کا سدباب کرنا ہوگا ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں غلط ہونے اور ان برائیوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی۔ آخر میں ہم سب کوبحیثیتقوم اپنی خواتین کو عزت وتکریم اور وہ سب حقوق دینے چاہئیے جو اسلام نے خواتین کو ودیعت کیے ہیں تاکہ خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔

مزید کالم پڑھیے

Post Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *